آرٹیمس ٹو مشن پر روانہ ہونے والا اورائن کیپسول زمین کے مدار سے کامیابی کے ساتھ باہر نکل چکا ہے اور اب چاند کی جانب اپنے سفر پر گامزن ہے۔ اس مشن میں تین مرد اور ایک خاتون خلاباز شامل ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مشن مینیجرز کی جانب سے حتمی منظوری ملنے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ اہم پیش رفت سامنے آئی۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بج کر پچاس منٹ پر خلائی جہاز کے سروس ماڈیول میں نصب انجن کو تقریباً چھ منٹ تک چلایا گیا۔
اس عمل کے نتیجے میں خلائی جہاز کی رفتار چالیس ہزار دو سو تینتیس کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جس نے اسے زمین کی کشش ثقل سے باہر نکلنے میں مدد دی اور اب یہ چار روزہ سفر کے بعد چاند کے قریب پہنچ جائے گا۔
مشن کنٹرول کی جانب سے ٹرانس لونر انجیکشن کے لیے گرین سگنل ملنے کے بعد فلائٹ ڈائریکٹر نے عملے کو پیش قدمی کی ہدایت کی۔ اس موقع پر مشن میں شامل کینیڈین خلاباز نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سفر کے لیے پرجوش ہیں اور چاند کی جانب دوبارہ رفتار پکڑنے کے منتظر ہیں۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس ٹو مشن بدھ کے روز فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا۔ پچاس برس سے زائد کے عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ انسان دوبارہ چاند کے سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔
اس مشن کا مقصد خلائی سفر کے لیے درکار اہم ترین سسٹمز کی جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل میں گہری خلا میں انسانی مہم جوئی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ چار خلابازوں پر مشتمل یہ ٹیم دس روزہ سفر مکمل کرنے کے بعد زمین پر واپس لوٹے گی۔
