-Advertisement-

ایران جنگ جاری رہی تو عالمی سطح پر غذائی اجناس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ، ایف اے او

تازہ ترین

ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، امریکی حکام کی تصدیق

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے اوپر ایک امریکی ایف 15 ای لڑاکا طیارہ تباہ ہوا...
-Advertisement-

عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں مارچ کے دوران گزشتہ ستمبر کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ایف اے او کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ اگر طویل ہوا تو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غذائی اجناس مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔

ایف اے او کے چیف ماہر معاشیات میکسیمو ٹوریرو کا کہنا ہے کہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے قیمتوں میں اضافہ معمولی رہا ہے جس کی بنیادی وجہ تیل کی بڑھتی قیمتیں ہیں جبکہ عالمی سطح پر اناج کی وافر مقدار نے اس کے اثرات کو محدود رکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ کشیدگی چالیس روز سے زائد جاری رہی تو کاشتکار کھاد اور دیگر ضروری آلات کے اخراجات بڑھنے کے باعث پیداواری عمل میں کمی یا فصلوں کے انتخاب میں تبدیلی لا سکتے ہیں جس کے اثرات رواں اور آئندہ برس کی فصلوں پر مرتب ہوں گے۔

ادارے کے فوڈ پرائس انڈیکس میں فروری کی نظرثانی شدہ سطح کے مقابلے میں دو اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ انڈیکس ایک سال قبل کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے تاہم مارچ دو ہزار بائیس میں یوکرین جنگ کے بعد پہنچنے والی بلند ترین سطح سے اب بھی بیس فیصد کم ہے۔

مارچ کے دوران اناج کی قیمتوں کے انڈیکس میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ گندم کی عالمی قیمتوں میں چار اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہے۔ اس اضافے کے پیچھے امریکا میں فصلوں کی خراب صورتحال اور آسٹریلیا میں کھاد کی بلند قیمتوں کے باعث کاشت میں متوقع کمی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ مکئی کی قیمتوں میں معمولی تیزی دیکھی گئی جبکہ چاول کی قیمتوں میں تین فیصد کمی واقع ہوئی جس کی وجہ درآمدی طلب میں کمی ہے۔

سبزیوں کے تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے ماہ پانچ اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پام، سویا، سورج مکھی اور ریپ سیڈ آئل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور بائیو فیول کی طلب میں اضافہ ہے۔ پام آئل کی قیمتیں دو ہزار بائیس کے وسط کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں سات اعشاریہ دو فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے جو اکتوبر دو ہزار پچیس کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی ہے جس کے باعث دنیا کے سب سے بڑے چینی برآمد کنندہ ملک برازیل کی جانب سے گنے کو ایتھنول کی تیاری میں استعمال کیے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ گوشت کی قیمتوں میں بھی ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایک الگ رپورٹ میں ایف اے او نے دو ہزار پچیس کے لیے عالمی اناج کی پیداوار کا تخمینہ تین ارب چھتیس ملین میٹرک ٹن تک بڑھا دیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ سطح ہے اور گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد زائد ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -