-Advertisement-

امریکی انٹیلی جنس: اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں برقرار

تازہ ترین

بلوچستان میں موسلا دھار بارشوں کا قہر، 9 افراد جاں بحق، 150 مکانات تباہ

صوبہ بلوچستان میں موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں نو افراد...
-Advertisement-

امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے باوجود ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کی صلاحیتیں بڑی حد تک برقرار ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل لانچرز کا تقریباً نصف حصہ اب بھی فعال ہے اور تہران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایسے خودکش ڈرونز موجود ہیں جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ نئی انٹیلی جنس معلومات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں سے متصادم ہیں جن میں انہوں نے بارہا کہا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو ڈرامائی حد تک کم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے بیشتر لانچرز اور ہتھیار بنانے والی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 12 ہزار 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ایرانی عسکری صلاحیت متاثر ہوئی اور اہم شخصیات کو ختم کیا گیا ہے۔ تاہم پینٹاگون نے محتاط انداز اپناتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ میزائلوں کی تعداد میں کمی تو آئی ہے لیکن اسے مکمل خاتمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے انٹیلی جنس رپورٹ کے دفاع میں کہا ہے کہ اس طرح کی تنقید دراصل امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ ایران کی آپریشنل صلاحیتوں کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے اور فضائی برتری حاصل کر لی گئی ہے۔

اسرائیلی عسکری ذرائع کا اندازہ ہے کہ ایران کے صرف 20 سے 25 فیصد لانچرز اس وقت فعال حالت میں ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ زیر زمین اور خفیہ تنصیبات کا مکمل تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے موبائل لانچرز اور زیر زمین سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک نے فضائی حملوں کی تاثیر کو محدود کر دیا ہے جس کی وجہ سے اہم اثاثے محفوظ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری صلاحیت کا نصف حصہ بھی تاحال برقرار ہے، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹی کشتیاں شامل ہیں جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے باقی ماندہ میزائل سسٹمز، ڈرونز اور پراکسی فورسز کے خلاف مزید کارروائی کی ضرورت ہوگی جو خطے اور سمندری راستوں کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -