اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سزائے موت کے نئے قانون کا اطلاق جنگی جرم کے زمرے میں آئے گا۔
چین نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کے بل کی منظوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ فلسطینی عوام کے قانونی حقوق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ فریقین ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں کشیدگی اور تنازعات میں اضافے کا باعث بنیں۔
چینی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ قانون سازی میں مساوات اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے اور کسی بھی قانون میں نسل، مذہب، قومیت یا سیاسی نظریات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جانا چاہیے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے پیر کو منظور کیے گئے اس متنازع قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کے الزامات میں سزا پانے والے فلسطینیوں کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت یافتہ اس قانون سازی پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں اسے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔ وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی سلوک کی عکاس ہے اور اس سے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یورپی یونین نے بھی اس قانون پر تنقید کی ہے، تاہم امریکہ نے اس معاملے پر اسرائیل کے اپنے قوانین بنانے کے خودمختار حق کی حمایت کی ہے۔
