-Advertisement-

ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، امریکی حکام کی تصدیق

تازہ ترین

اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کا دورہ سعودی عرب، توانائی کے تحفظ پر توجہ مرکوز

اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اپنے دورہ خلیج کے غیر اعلانیہ سلسلے کا آغاز سعودی عرب سے کر...
-Advertisement-

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے اوپر ایک امریکی ایف 15 ای لڑاکا طیارہ تباہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق طیارے کے گرائے جانے کے بعد تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری ہے۔ ایف 15 ای طیارے میں دو رکنی عملہ سوار ہوتا ہے۔

جمعہ کے روز ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ملک کے وسطی حصے میں ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں ایران کے وسطی اور جنوب مغربی علاقوں میں امریکی سی 130 طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کو نچلی پروازیں کرتے دیکھا گیا ہے، جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ کارروائی لاپتہ عملے کی تلاش اور بازیابی کے لیے کی جا رہی ہے۔

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج ایران کے اوپر کم از کم 16 ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کھو چکی ہے۔ اس کے علاوہ تنازع کے ابتدائی دنوں میں کویت کے اوپر فرینڈلی فائر کے نتیجے میں تین امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے بھی تباہ ہوئے تھے تاہم ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صدر ٹرمپ، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ اور امریکی عسکری کمانڈرز مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی فضائی بالادستی نے ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت اور فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعرات کو کہا تھا کہ مہم کے پانچویں ہفتے میں پیش رفت ناقابل تردید ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی بحریہ متحرک نہیں ہے، ان کے طیارے پرواز نہیں کر رہے اور فضائی و میزائل دفاعی نظام کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹی وی کے ایک مقامی چینل نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکی پائلٹ یا پائلٹس کو زندہ پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنے والے شخص کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹی وی نشریات میں ایک تحریری پیغام بھی شامل کیا گیا جس میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اوپر پرواز کرنے والے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنائیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -