-Advertisement-

ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار، خطے میں جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار

تازہ ترین

جرمنی: ایسٹر کی تقریب کے دوران درخت گرنے سے 10 ماہ کی بچی سمیت 3 افراد ہلاک

شمالی جرمنی میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں دس ماہ کی...
-Advertisement-

ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں جنگ بندی کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق تہران نے بیک چینل سفارت کاری میں مصروف ثالث ممالک کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ امریکی مطالبات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں جس کے باعث کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

رپورٹ میں ثالثوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے جمعہ کے روز امریکی ہم منصبوں سے ملاقات سے انکار کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث اب بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، جس کی تہران نے سختی سے تردید کی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے تو امریکہ جنگ بندی کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس کے بنیادی مطالبات پورے کیے جائیں۔ ان مطالبات میں جنگی نقصانات کا معاوضہ، مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے انخلا اور مستقبل میں حملوں کے خلاف ٹھوس ضمانتیں شامل ہیں۔ اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والا یہ تنازع اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ تہران بھی اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جمعہ کے حملوں کے بعد اپنی حدود میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ایف پینتیس طیارہ تھا اور اس کے پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔

امریکی حکام نے طیارے کے گرنے کی تصدیق تو کی ہے تاہم ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تباہ ہونے والا طیارہ ایف پندرہ ای تھا جس میں دو پائلٹ سوار تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرے کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ادھر ایرانی سیکیورٹی فورسز اور مقامی شہری بھی لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام نے پائلٹ کو ڈھونڈنے یا پکڑنے والے کے لیے انعامات اور اعزازات کا اعلان بھی کیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -