سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے دائر کی گئی نظر ثانی اپیل پر سماعت کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس اہم مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آٹھ اپریل کو سماعت کرے گا۔
عدالتی بینچ میں جسٹس صلاح الدین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل ہوں گے۔ یہ مقدمہ جولائی دو ہزار اکیس میں ستائیس سالہ نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق ہے، جنہیں مجرم ظاہر جعفر کی رہائش گاہ پر قتل کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق مقتولہ کو قتل سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر سر قلم کر دیا گیا۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا اور زیادتی کے جرم میں قید کی سزا کو دوسری سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔ بیس مئی دو ہزار پچیس کو سپریم کورٹ نے بھی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے زیادتی سے متعلق دفعات کے فیصلے کو برقرار رکھا جبکہ پچیس سال قید کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ عدالت نے مقتولہ کے لواحقین کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی برقرار رکھا ہے۔
سپریم کورٹ نے اسی مقدمے میں ملوث مجرم کے مالی اور چوکیدار کی سزاؤں میں کمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ جان محمد اور افتخار قید کی کافی سزا بھگت چکے ہیں۔
