تہران (ایجنسیاں) ایرانی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی فوج کے دو لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے۔ پہلا واقعہ ایران کے جنوب مغربی حصے میں پیش آیا جہاں ایف 15 طیارے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرا واقعہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا جہاں ایک اے 10 طیارہ تباہ ہو کر خلیج میں گر گیا۔
ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایک ایف 15 طیارے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ بعد ازاں ایرانی حکام نے بتایا کہ انہوں نے امریکی فضائیہ کے ایک اے 10 طیارے کو بھی نشانہ بنایا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اس طیارے کا پائلٹ محفوظ رہا۔
ایف 15 طیارے کے عملے کی صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اہلکار کو امریکی افواج نے بازیاب کر لیا ہے جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایف 15 طیارے کے ملبے اور پیراشوٹ کے ساتھ ایجیکشن سیٹ کی تصاویر بھی نشر کی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طیاروں کے گرائے جانے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ جنگ ہے تو انہوں نے کہا کہ جی ہاں، ہم جنگ کی حالت میں ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر کے بیانات پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو 37 بار شکست دینے کے دعوے کرنے والے اب اپنے پائلٹوں کو ڈھونڈنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے قبل بھی ایسے دعووں پر امریکی سینٹرل کمانڈ فوری تردید کرتی رہی ہے۔
ادھر صوبہ کوہگیلوئے اور بویراحمد کے گورنر نے مقامی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پائلٹوں کی تلاش میں مدد کریں اور انہیں پکڑنے والوں کو خصوصی انعام دیا جائے گا۔
