ایران نے جمعہ کے روز امریکی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایک طیارے کے عملے کے رکن کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جو طبی امداد حاصل کر رہا ہے جبکہ دوسرے اہلکار کی قسمت کے بارے میں تاحال کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
واقعے کے فوری بعد ایک اور امریکی لڑاکا طیارے اے ٹین وارٹ ہاگ کو ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ طیارے کو ایرانی حدود سے باہر نکالنے میں کامیاب رہا اور بعد ازاں طیارے سے بحفاظت نکلنے کے بعد اسے ریسکیو کر لیا گیا۔ ان واقعات نے امریکی انتظامیہ کے اس دعوے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے جس میں ایرانی فضائی حدود پر مکمل اور غیر متنازع کنٹرول کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل یہ بیانات دے رہے تھے کہ تہران سمیت ایران کے تمام علاقوں کی فضائی حدود پر امریکی اور اسرائیلی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے۔ وزیر دفاع نے چار مارچ کو ایک بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ ایران ان کارروائیوں کے خلاف کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اسی بیانیے کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی فضائی حدود میں امریکی طیارے بلا روک ٹوک پرواز کر رہے ہیں اور ایران کے پاس نہ تو کوئی بحریہ ہے اور نہ ہی کوئی فعال فضائی دفاعی نظام موجود ہے۔
تاہم ایک ہی دن میں دو طیاروں کا گرایا جانا حکومتی دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان وسیع خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعات غیر روایتی جنگ کے خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی امریکی انتظامیہ کی جانب سے فوجی کامیابیوں کے مبالغہ آمیز دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ گزشتہ جون میں صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم انٹیلیجنس رپورٹس نے ان دعووں کی نفی کی تھی۔
موجودہ صورتحال نے امریکی حکومت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ جنگی کامیابیوں کو انتظامیہ کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جا رہا تھا لیکن عوامی سطح پر اس تنازع کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں اور غیر واضح فوجی اہداف نے امریکی عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا اصرار ہے کہ میڈیا امریکی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہا ہے تاہم حالیہ واقعات نے امریکی فوجی برتری کے دعووں کو شدید چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
