ایک بھارتی جریدے نے تسلیم کیا ہے کہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت نے نئی دہلی کو گہرے بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم کروانے میں پاکستان کا کردار بھارت کے علاقائی اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔
بھارتی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے اپنے مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ عالمی سفارت کاری کا مرکز اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بجائے پاکستان بن چکا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی جانب سے ادا کیا جانے والا سفارتی کردار علاقائی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
مضمون کے مطابق پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اس صورتحال نے بھارت کو مشرق وسطیٰ کے اہم مذاکرات سے باہر کر دیا ہے، جسے مودی سرکار کے لیے خفت اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے کمزور ہوتے تعلقات کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں اور عالمی طاقتیں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے کردار کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لیے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے جبکہ بھارتی خارجہ پالیسی ٹھوس نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔
مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر وہی سفارتی مقام حاصل کر لیا ہے جو 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران اسے حاصل تھا، جہاں پاکستان امریکہ، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی نسبت پاکستان پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی صحافی نے لکھا کہ پاکستان کی فعال اور مؤثر سفارت کاری نے بھارت کے بیانیے کو کمزور کر دیا ہے، جہاں نئی دہلی محض بیانات تک محدود دکھائی دیتا ہے جبکہ اسلام آباد عملی سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
