ٹیلی گرام کے بانی پاول ڈوروو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روس کی جانب سے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس یعنی وی پی این پر پابندی کی کوششوں کے نتیجے میں مقامی ادائیگی کے نظام میں شدید تعطل پیدا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کروڑوں روسی شہری اب ان ڈیجیٹل رکاوٹوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث جمعہ کے روز ماسکو میں خریداری کرنے والے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ماسکو میٹرو انتظامیہ کو ٹرن اسٹائلز کے ذریعے مسافروں کو بغیر ادائیگی داخلے کی اجازت دینی پڑی جبکہ ایک مقامی چڑیا گھر نے زائرین سے نقد رقم لانے کی اپیل کی۔
پاول ڈوروو نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومتی پابندیوں کی کوششوں نے ایک بڑے بینکنگ بحران کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے روسی شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیجیٹل مزاحمت میں واپس آ گئے ہیں اور پوری قوم ان غیر معقول پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے لیے متحرک ہو چکی ہے۔
دبئی میں قائم ٹیلی گرام کے بانی پاول ڈوروو 2014 میں روس سے اس وقت نکل گئے تھے جب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی کے پر اپوزیشن کمیونٹیز کو بند کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیلی گرام کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد ایک سال کے اندر ایک ارب تک پہنچ جائے گی۔
فرانس میں اگست 2024 میں اپنی گرفتاری کے بعد، متحدہ عرب امارات اور روس نے پاول ڈوروو تک قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فرانسیسی حکومت سے فوری قونصلر خدمات کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ اسی طرح پیرس میں روسی سفارت خانے نے بھی فرانسیسی وزارت خارجہ کو ایک مراسلہ بھیجا ہے۔
کریملن نے فروری 2026 میں واٹس ایپ پر پابندی عائد کرتے ہوئے شہریوں کو سرکاری سرپرستی میں تیار کردہ میکس پلیٹ فارم استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ میٹا کی جانب سے روسی حکام پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ واٹس ایپ کو مکمل طور پر بند کر کے شہریوں کو نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ریاستی ایپ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اس دباؤ کے باوجود بہت سے روسی شہری وی پی این کے ذریعے واٹس ایپ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیلی گرام جیسے دیگر متبادل پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں۔
