-Advertisement-

پنجاب میں بارشوں کا سلسلہ جاری، مری میں سب سے زیادہ ریکارڈ

تازہ ترین

پیرو: فٹ بال اسٹیڈیم میں بھگدڑ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

پیرو کے دارالحکومت میں فٹ بال اسٹیڈیم کے اندر شائقین کے شدید رش کے باعث بھگدڑ مچنے سے کم...
-Advertisement-

پنجاب بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ بارش مری میں 48 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

ڈی جی خان کے علاقے فورٹ منرو میں 40 ملی میٹر اور واہو میں 11 ملی میٹر بارش ہوئی۔ راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں بھی بادل جم کر برسے جہاں شمس آباد میں 40، چکلالہ میں 35 اور کٹاریاں میں 31 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ترجمان کے مطابق اٹک میں 35 ملی میٹر، فیصل آباد میں 33 اور سرگودھا شہر میں 25 ملی میٹر بارش ہوئی۔ گجرات میں 24، منگلا اور جوہر آباد میں 22 جبکہ چکوال میں 21 ملی میٹر بارش ہوئی۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایئرپورٹ کے علاقے میں 8 اور شہر میں 3 ملی میٹر بارش ہوئی۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، بہاولپور اور لیہ میں بھی ہلکی اور تیز بارش کے واقعات پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے اور شہریوں کو گرج چمک اور آسمانی بجلی کے دوران محفوظ مقامات پر رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پانچ اپریل سے مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہوگا جس کے زیر اثر چھ اپریل کو سندھ کے کئی علاقوں میں بارش متوقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سکھر، کشمور اور گھوٹکی میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ درمیانی اور کہیں کہیں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ جامشورو، دادو، قمبر شہداد کوٹ، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، میرپور خاص، مٹیاری، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، ٹھٹھہ، بدین، سجاول اور کراچی ڈویژن میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور ژالہ باری سے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دریں اثنا گزشتہ روز کراچی میں بارش کے دوران سمندر میں ٹورنیڈک واٹر سپاؤٹ دیکھا گیا۔ یہ پانی کے اوپر بننے والا ہوا کا ایک گھومتا ہوا کالم ہوتا ہے جو بادل سے سطح آب تک ایک فنل کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عام واٹر سپاؤٹ سے زیادہ طاقتور اور تباہ کن ہوتا ہے اور یہ سمندر میں موجود ماہی گیروں کی کشتیوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -