ایرانی حکام نے ہفتے کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تہران جاری تنازع کا دیرپا حل نکالنے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا جواب خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تہران کے موقف کی غلط ترجمانی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پاکستان کا شکر گزار ہے اور اسلام آباد کے دورے کی دعوت کو کبھی مسترد نہیں کیا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی اولین ترجیح ملک پر مسلط کردہ غیر قانونی جنگ کا حتمی اور مستقل خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران ان شرائط پر توجہ دے رہا ہے جو اس جنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا باعث بنیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے الجزیرہ عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے موجودہ تنازع کو اسرائیل کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کو خطے میں امریکی اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانے پر مجبور کیا گیا، جو کہ ملک کی اسٹریٹجک موجودگی اور تحفظ کے لیے ناگزیر تھا۔ انہوں نے سخت لہجے میں تنبیہ کی کہ تہران پر مزید دباؤ ڈالنے کی صورت میں بھرپور اور وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی قیادت نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی مداخلت کے بغیر دوطرفہ اور کثیر الجہتی معاہدوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ عدم استحکام کی جڑوں کو ختم کیا جائے اور سیکیورٹی کے معاملات کو امریکا اور اسرائیل کے اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جائے۔
