امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناکافی قرار دے دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ تہران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے اور اس میں توسیع کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
امریکی صدر نے دھمکی دی کہ اگر آبنائے ہرمز سے جہاز رانی مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے جس کی اہمیت کے پیش نظر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دریں اثنا سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیش کردہ پینتالیس روزہ جنگ بندی کی تجویز کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ صرف عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کے مستقل خاتمے اور مستقبل میں حملوں سے تحفظ کی ضمانت چاہتے ہیں۔ قاہرہ میں تعینات ایرانی سفیر مجتبیٰ فردوسی پور نے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کا خواہشمند ہے جس میں علاقائی تنازعات کا خاتمہ، پابندیوں کا اٹھایا جانا اور تعمیر نو شامل ہو۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال کسی بھی سمجھوتے کی منظوری نہیں دی۔ آپریشن ایپک فیوری کے تحت امریکی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
ایرانی فوج نے صدر ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر حقیقت پسندانہ اور تکبرانہ قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی دھمکیاں بے بنیاد ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تعطل مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
