امریکی محکمہ انصاف نے ایک سابق فوجی افسر پر خفیہ معلومات صحافی کو فراہم کرنے کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد کر دی ہے۔ چالیس سالہ کورٹنی ولیمز پر الزام ہے کہ انہوں نے شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ فوجی اڈے پر منشیات سمگلنگ، قتل اور بدعنوانی سے متعلق حساس دستاویزات ایک صحافی تک پہنچائیں۔
محکمہ انصاف کے مطابق کورٹنی ولیمز نے جاسوسی کے امریکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ نے دو ہزار بائیس سے دو ہزار پچیس کے درمیان ایک صحافی کے ساتھ فون اور میسجز کے ذریعے رابطے کیے اور دس گھنٹے سے زائد طویل گفتگو کے دوران ایک سو اسی سے زائد پیغامات کا تبادلہ کیا۔
عدالتی دستاویزات میں صحافی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تاہم صحافی سیٹھ ہارپ نے گزشتہ برس ایک کتاب دی فورٹ بریگ کارٹل شائع کی تھی جس میں کورٹنی ولیمز کو بطور ذرائع استعمال کیا گیا تھا۔ سیٹھ ہارپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ولیمز کو ایک بہادر وسل بلوئر قرار دیا ہے جس نے فوج میں صنفی امتیاز اور جنسی ہراسانی کو بے نقاب کیا۔
سرکاری وکلاء کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے دو ہزار دس سے دو ہزار سولہ تک فورٹ بریگ میں ایک خصوصی یونٹ کے ساتھ کام کیا اور وہ ٹاپ سیکرٹ سیکیورٹی کلیئرنس کی حامل تھیں۔ استغاثہ کے مطابق ملزمہ نے سوشل میڈیا پر بھی خفیہ معلومات افشا کیں اور گرفتاری کے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں آزادی اظہار کے حامی سرکاری ملازمین کی جانب سے میڈیا کو معلومات فراہم کرنے پر حکومتی سخت گیر رویے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کورٹنی ولیمز کے وکلاء کی جانب سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
