-Advertisement-

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی اسرائیل مخالف وائرل ویڈیو پرانی اور بے بنیاد قرار

تازہ ترین

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے واشنگٹن میں ہنگامی مذاکرات کا فیصلہ

واشنگٹن میں لبنان میں جنگ بندی کے قیام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سہ فریقی سفارتی مذاکرات کا اہتمام...
-Advertisement-

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 8 اپریل 2026 سے ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بمباری کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے پر تنقید کی ہے۔ تاہم حقائق کی جانچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور اس کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل 2026 کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ کشیدگی 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی جس نے خطے کو ایک بڑی جنگ کی دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ پاکستان کی میزبانی میں 11 اپریل کو دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے لبنان بھر میں شدید فضائی حملے کیے جن میں کم از کم 203 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے ڈپٹی مستقل مندوب عثمان جدون کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئر کرنے والے صارفین کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کے مجرمانہ حملوں کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ کلپ پی ٹی آئی کی پارلیمنٹرین شاندانہ گلزار سمیت کئی سوشل میڈیا صارفین نے شیئر کیا، جس کے بعد اس کے ویوز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو 12 مارچ 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کی ہے، جس کا مقصد اس وقت لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں پر آواز اٹھانا تھا۔ ریڈیو پاکستان اور دیگر مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت عثمان جدون نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حق میں بات کی تھی، تاہم اس خطاب میں امریکا یا ایران کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔

آئی ویریفائی پاکستان کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ ویڈیو کا تعلق مارچ 2026 کے واقعات سے ہے اور اسے موجودہ صورتحال سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -