-Advertisement-

بر وقت تشخیص اور علاج سے کینسر کے باعث اموات میں 40 فیصد کمی ممکن

تازہ ترین

میچ کے دوران میدان چھوڑنے پر لائنز نے بیئرز سوانپول کو ٹیم سے فارغ کر دیا

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم لائنز نے آل راؤنڈر بیئرز سوانپول کا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ...
-Advertisement-

پاکستان میں بریسٹ کینسر کے عالمی آگاہی مہینے کے تناظر میں ماہر آنکولوجسٹ ڈاکٹر ثناء ذیشان نے کہا ہے کہ اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج سے شرح اموات میں چالیس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ ملک میں ہر سال نوے ہزار خواتین اس موذی مرض کا شکار ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے عوامی سطح پر آگاہی اور باقاعدگی سے اسکریننگ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایک مقامی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے معروف سرجن اور آنکولوجسٹ ڈاکٹر ثناء ذیشان نے زور دیا کہ مرض کی ابتدائی اسٹیج پر شناخت نہ صرف مریضہ کی زندگی بچانے کے امکانات کو بڑھاتی ہے بلکہ اس سے مریضہ پر پڑنے والے جسمانی، جذباتی اور مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔

ڈاکٹر ثناء ذیشان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں علاج، ایڈوانس کینسر تھراپی کے مقابلے میں کافی کم خرچ ہے، کیونکہ کینسر کے آخری مراحل میں علاج کے عمل انتہائی پیچیدہ اور طویل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے معائنے خود کرنے کی عادت ڈالیں اور باقاعدگی سے ڈاکٹر سے چیک اپ کرواتی رہیں۔

ماہر آنکولوجسٹ نے حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوامی آگاہی مہمات کو وسیع کیا جائے اور اسکریننگ کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بروقت تشخیص نہ صرف قیمتی جانیں بچانے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ خاندانوں کو مالی مشکلات سے محفوظ رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -