امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن نے چین کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کو امریکی ڈیٹا سینٹرز چلانے اور امریکی کیریئرز کے ساتھ روابط سے روکنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کے خدشات کو دور کرنا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق چائنا موبائل، چائنا ٹیلی کام اور چائنا یونیکام جیسی کمپنیوں کو ان فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے جو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔ حکام ان کمپنیوں کے ساتھ امریکی ٹیلی کام آپریٹرز کے باہمی روابط پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایف سی سی اس تجویز پر ابتدائی ووٹنگ 30 اپریل کو متوقع اجلاس میں کرے گی۔ کمیشن ان چینی ٹیلی کام اداروں پر بھی پابندیوں کا جائزہ لے رہا ہے جو امریکی انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس پر اپنے ڈیٹا سینٹرز یا پوائنٹس آف پریزنس کے مالک ہیں۔
نئی تجاویز کے تحت ہواوے اور زیڈ ٹی ای جیسی کمپنیوں کے آلات استعمال کرنے والے نیٹ ورکس کے ساتھ بھی روابط محدود کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی لیبارٹریوں کی جانب سے اسمارٹ فونز، کیمروں اور کمپیوٹرز کی جانچ پڑتال پر بھی پابندی لگانے کا منصوبہ ہے تاکہ امریکی مارکیٹ میں تکنیکی رسائی کو مزید محدود کیا جا سکے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین قومی سلامتی کے تصور کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور ریاستی طاقت کے غلط استعمال کے ذریعے چینی کاروباری اداروں کو دبانے کی پالیسی کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ ایف سی سی اس سے قبل بھی 2019 میں چائنا موبائل، 2021 میں چائنا یونیکام اور 2022 میں چائنا ٹیلی کام کی امریکی آپریشنز کی اجازت منسوخ کر چکی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران کمیشن نے چینی ساختہ ڈرونز اور راؤٹرز کی درآمد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
