-Advertisement-

امریکہ: نوجوانوں کی فوجی ڈرافٹ کے لیے خودکار رجسٹریشن کا منصوبہ

تازہ ترین

لبنان میں ایران جنگ کے باعث غذائی بحران کا خدشہ: عالمی ادارہ خوراک کی وارننگ

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ کے باعث غذائی اجناس...
-Advertisement-

امریکی حکام کی جانب سے ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے جس کے تحت نوجوانوں کی فوجی خدمات کے لیے رجسٹریشن کا عمل خودکار بنایا جا سکتا ہے۔ اس مجوزہ تبدیلی کے بعد دسمبر تک نوجوانوں کو خود رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وفاقی ادارہ سلیکٹو سروس سسٹم دیگر سرکاری ذرائع سے ڈیٹا حاصل کر کے خودکار طریقے سے رجسٹریشن مکمل کر لے گا۔

موجودہ قوانین کے مطابق امریکہ میں اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کے لیے 30 دن کے اندر رجسٹریشن کروانا لازمی ہوتا ہے۔ سلیکٹو سروس سسٹم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی اور یاد دہانی کے لیے چلائی جانے والی مہمات پر اٹھنے والے فنڈز کی بچت ہوگی۔

یہ تجویز نیشنل ڈیفنس اتھرائزیشن ایکٹ کا حصہ ہے جسے کانگریس کی منظوری حاصل ہے۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد عمل کو ہموار کرنا اور وسائل کو فوجی تیاریوں پر مرکوز کرنا ہے۔ تاہم یہ تجویز ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے اور اس کے نافذ ہونے سے قبل مزید جائزے لیے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں رجسٹریشن نہ کروانا ایک وفاقی جرم تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وفاقی تعلیمی وظائف، سرکاری ملازمتوں اور بعض صورتوں میں شہریت کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں رجسٹریشن کی شرح 81 فیصد تک گر گئی تھی، جس کے بعد اس نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

اس پیش رفت نے امریکی عوام میں ایک بڑے بحران یا جنگ کی صورت میں لازمی فوجی بھرتی کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں 1973 کی ویتنام جنگ کے بعد سے کبھی لازمی فوجی بھرتی کا نفاذ نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کسی بھرتی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -