وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام کی ممکنہ وجہ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں ناکامی اور گرین لینڈ کے حصول کے منصوبے میں پیش رفت نہ ہونا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ اس آپشن پر تبادلہ خیال کیا ہے کہ یورپ میں موجود امریکی دستوں کو واپس امریکہ بلا لیا جائے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے واضح کیا کہ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی پینٹاگون کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ ہدایت جاری کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت واشنگٹن اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاس ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے حالیہ دورہ وائٹ ہاؤس کے باوجود دو طرفہ تعلقات 1949 میں نیٹو کے قیام کے بعد سے اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں۔
اس وقت یورپ میں 80 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جن میں سے 30 ہزار سے زائد جرمنی میں موجود ہیں۔ دیگر دستے اٹلی، برطانیہ اور اسپین میں تعینات ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ اگر انخلا کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو کن ممالک کو متاثر کیا جائے گا یا کتنے فوجی واپس بلائے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر دفاعی اخراجات میں کمی کا الزام لگانے کے بعد سے تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے، تاہم گزشتہ تین ماہ انتہائی ہنگامہ خیز ثابت ہوئے ہیں۔ جنوری میں گرین لینڈ کو ڈنمارک سے خریدنے کے معاملے اور 28 فروری کو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں نیٹو کی عدم تعاون پر صدر ٹرمپ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ ان ممالک سے فوجیوں کو منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے جن کے رہنماؤں نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ پر تنقید کی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کا اصل مقصد فوجیوں کو دوسرے یورپی ممالک میں منتقل کرنے کے بجائے انہیں براہ راست امریکہ واپس بلانا ہے۔
