-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: سعودی عرب میں آئل ریفائنری حملے کے بعد بند

تازہ ترین

ایشین ڈویلپمنٹ بینک: مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا امکان

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.5...
-Advertisement-

فرانسیسی توانائی کمپنی ٹوٹل اینرجیز نے تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع ایک بڑی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچنے کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی نے جمعرات کے روز مملکت کے تیل اور گیس کے تنصیبات پر متعدد حملوں کی اطلاع دی تھی۔ ان متاثرہ مقامات میں سیٹورپ ریفائنری بھی شامل ہے جو ٹوٹل اینرجیز اور سعودی آرامکو کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

ٹوٹل اینرجیز کے مطابق سات اور آٹھ اپریل کی درمیانی شب پیش آنے والے واقعات میں ریفائنری کے دو پروسیسنگ یونٹس میں سے ایک کو نقصان پہنچا۔ کمپنی نے احتیاطی تدابیر کے طور پر دونوں یونٹس کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سعودی وزارتِ توانائی نے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کو بتایا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے جس سے کلیدی تنصیبات پر پیداواری عمل متاثر ہوا ہے۔ ان حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

سیٹورپ ریفائنری میں سعودی آرامکو کا حصہ 62.5 فیصد جبکہ ٹوٹل اینرجیز کا 37.5 فیصد ہے۔ سنہ 2014 میں کام شروع کرنے والی یہ ریفائنری روزانہ چار لاکھ 60 ہزار بیرل خام تیل کو ریفائن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ان حملوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا پمپنگ اسٹیشن بھی نشانہ بنا، جس کے باعث روزانہ سات لاکھ بیرل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی منڈیوں کو تیل پہنچانے کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ منیفا پروڈکشن سائٹ پر حملے سے مزید تین لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کا نقصان ہوا ہے جس کے بعد مجموعی پیداواری صلاحیت میں چھ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

خطے میں جاری ان حملوں اور آبنائے ہرمز کے عملی طور پر بند ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کئی برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تیل کی سپلائی میں یہ خلل عالمی معیشتوں کے لیے افراطِ زر کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردعمل میں کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو روزانہ تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -