-Advertisement-

تنگنائے ہرمز میں ایران کا ٹول ٹیکس: عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست کے لیے سنگین خطرات

تازہ ترین

چمن بارڈر کے راستے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کا سلسلہ جاری

کوئٹہ سے افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کا عمل جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد...
-Advertisement-

تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی اطلاعات نے عالمی منڈی میں تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

لائیڈز لسٹ انٹیلیجنس کی رپورٹ کے مطابق ایران کا پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں غیر اعلانیہ طور پر ٹول ٹیکس کا نظام نافذ کر چکا ہے۔ اس کے تحت جہازوں کو مکمل دستاویزات جمع کروانے، کلیئرنس کوڈ حاصل کرنے اور پاسداران انقلاب کے حفاظتی حصار میں ایک مخصوص راستے سے گزرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ بحری تحقیق فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق کم از کم دو جہاز چینی یوآن میں یہ فیس ادا کر چکے ہیں۔

اگرچہ ایران نے ابھی تک سرکاری سطح پر کسی ٹول کا نفاذ نہیں کیا ہے، تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تہران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ طویل مدتی امن معاہدے کے تحت جہازوں کو محفوظ گزرگاہ کی ضمانت کے بدلے فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کی انرجی ایکسپورٹ یونین کے ترجمان حمید حسینی کے مطابق حکومت ایک ڈالر فی بیرل کے مساوی ٹیرف عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ہر آئل ٹینکر پر دو ملین ڈالر تک کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس اہم تجارتی گزرگاہ پر کوئی فیس عائد نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایسا کر رہا ہے تو اسے فوری طور پر رک جانا چاہیے۔

کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کو توانائی کی تجارت کی ایک اہم شریان پر عملی کنٹرول دے گا، جس سے عالمی معیشت کے لیے نئے جغرافیائی سیاسی خطرات پیدا ہوں گے۔ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی سپلائی گزرتی ہے، اب عملی طور پر بند ہے۔ مارچ میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی یومیہ تعداد اوسطاً چھ تھی، جبکہ رواں ماہ یہ تعداد 10 رہی، حالانکہ معمول کے دنوں میں یہاں سے روزانہ 100 سے زائد جہاز گزرتے تھے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل 65 سے 73 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں، اب 95 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکس کا نفاذ پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ نہیں کرے گا، لیکن ایران کا آبنائے پر کنٹرول برقرار رہنا طویل عرصے تک تیل کی قیمتوں کو بلند سطح پر رکھے گا۔

آرٹیم ابراموف نے خبردار کیا ہے کہ اس غیر معمولی صورتحال کے باعث شپنگ انشورنس کی شرح میں اضافہ ہوگا، جس کا حتمی بوجھ صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔ تاہم ایس جی ایچ میکرو ایڈوائزرز کے سی ای او ساسان قہرمانی کے نزدیک خلیجی خطے میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ٹول ٹیکس سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ ہے، جو توانائی کی منڈیوں کے لیے اصل گیم چینجر ثابت ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -