مقبوضہ بیت المقدس میں پانچ ہفتوں سے زائد کی بندش کے بعد مسجد اقصیٰ کے دروازے نمازیوں کے لیے کھول دیے گئے۔ طویل عرصے بعد ہونے والی پہلی جمعہ کی نماز کے موقع پر ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد کا رخ کیا اور احاطے کو نمازیوں سے بھر دیا۔
اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ جمعرات کی صبح سے مسجد اقصیٰ اور چرچ آف ہولی سیپلچر کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ یہ دونوں مقدس مقامات 28 فروری سے بند تھے، جنہیں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران سیکیورٹی خدشات کا جواز بنا کر بند رکھا گیا تھا۔
جمعہ کی صبح سویرے سے ہی مرد، خواتین، بچے اور بزرگوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔ طویل عرصے تک عبادت سے محروم رہنے والے فلسطینیوں میں مسجد میں واپسی کے لیے شدید جوش و خروش پایا گیا۔
اس طویل بندش کے باعث فلسطینیوں کو مسلسل پانچ جمعہ کی نمازوں سے محروم رکھا گیا جن میں 6، 13، 20 اور 27 مارچ کے علاوہ 3 اپریل کے اجتماعات شامل تھے۔
اسرائیلی قبضے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ رواں برس عید الفطر کی نماز بھی مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ نماز جمعہ کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بھی مسجد کے اطراف میں تعینات رہی۔
