-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی کرپشن کیس میں گواہی ملتوی کرنے کی درخواست

تازہ ترین

سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ سپردِ خاک

سابق گورنر پنجاب اور سینئر سیاستدان سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن کے اسپورٹس اسٹیڈیم...
-Advertisement-

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے میں گواہی دینے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ہے۔ وکلاء کی جانب سے یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم فوری طور پر عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق نیتن یاہو نے کم از کم دو ہفتوں کے لیے گواہی ملتوی کرنے کی استدعا کی ہے۔ دفاعی ٹیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے حالیہ اہم واقعات کے باعث سکیورٹی اور سفارتی نوعیت کے معاملات انتہائی حساس ہیں، جس کی تفصیل ایک سربمہر لفافے میں عدالت کو فراہم کر دی گئی ہے۔

مقدمے کی سماعت اتوار کے روز دوبارہ شروع ہونی تھی، تاہم اب عدالت استغاثہ کا جواب موصول ہونے کے بعد ہی اس درخواست پر فیصلہ کرے گی۔ واضح رہے کہ بنجمن نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کے پہلے برسرِ اقتدار وزیراعظم ہیں جنہیں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔

ان پر 2019 میں رشوت ستانی، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن سے وہ مسلسل انکار کرتے رہے ہیں۔ سن 2020 میں شروع ہونے والا یہ مقدمہ سرکاری مصروفیات اور دیگر وجوہات کی بنا پر بارہا التوا کا شکار رہا ہے اور تاحال اس کے مکمل ہونے کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آسکی ہے۔

اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں اور بدعنوانی کے مقدمات کے باعث نیتن یاہو کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق اکتوبر میں متوقع انتخابات میں نیتن یاہو کی اتحادی حکومت، جو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت سمجھی جاتی ہے، کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -