-Advertisement-

ممبر کسٹمز آپریشنز کا تاجر برادری کو درپیش مسائل کے فوری حل اور امور کو آسان بنانے کا یقین

تازہ ترین

عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوام کو براہ راست ریلیف...
-Advertisement-

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کسٹمز کے رکن آپریشنز سید شکیل شاہ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس میں کسٹمز سے متعلقہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں فیس لیس سسٹم کے نفاذ، پری ارائیول کلیئرنس اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کو سراہا گیا۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ اجلاس ملک بھر سے آن لائن اور بالمشافہ شرکت کے ساتھ منعقد کیا گیا جس کا مقصد کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اور اصلاحاتی تجاویز پیش کرنا تھا۔ انہوں نے معاشی استحکام کے لیے بارڈر اور پورٹ مینجمنٹ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارت اور صنعت کا انحصار کسٹمز کے ہموار نظام پر ہے۔

رکن کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ نے تاجر برادری کو یقین دہانی کرائی کہ کسٹمز لیبارٹری کی اپ گریڈیشن، شکایات کے ازالے کے نظام اور متبادل تنازعات کے حل کی کمیٹیوں (اے ڈی آر سی) کے موثر استعمال کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے تاجروں کو دعوت دی کہ وہ اپنے جائز کیسز متعلقہ دستاویزات کے ساتھ پیش کریں، کیونکہ محکمہ کسٹمز قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگو نے درپیش آپریشنل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو ویلیوایشن تنازعات، ایچ ایس کوڈز اور کلیئرنس میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کسٹمز لیبارٹری کی توسیع میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جدید لیبارٹری کا قیام غیر ضروری اخراجات اور تاخیر کو ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قانونی چارہ جوئی کے بجائے اے ڈی آر سی کے فعال کردار پر زور دیا۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی نے بندرگاہوں پر طویل دورانیے کے باعث بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت پر تشویش کا اظہار کیا اور تجویز دی کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمد شدہ سامان پر ویلیوایشن رولنگ کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔

نائب صدر امان پراچہ نے مطالبہ کیا کہ کسٹمز کے طریقہ کار کو جدید اور ایس ایم ایز کے لیے سازگار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض شبہ کی بنیاد پر سامان ضبط کرنے سے تاجروں کو مہینوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لہذا اس عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

ایف پی سی سی آئی قیادت نے اجلاس کے اختتام پر ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر تجارتی ماحول کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -