-Advertisement-

آرٹیمس ٹو مشن: چاند کے گرد سفر مکمل کرنے کے بعد خلاباز بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے

تازہ ترین

اسلام آباد مذاکرات خطے میں پائیدار امن کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے لیے آنے والے...
-Advertisement-

ناسا کا آرٹیمس ٹو مشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے اور چار رکنی عملہ زمین پر بحفاظت واپس پہنچ چکا ہے۔ خلائی کیپسول انٹیگریٹی نے جمعہ کے روز بحر الکاہل میں جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب لینڈنگ کی۔ یہ مشن نصف صدی سے زائد عرصے میں انسانوں کا چاند کے قریب جانے والا پہلا سفر تھا۔

دس روز تک جاری رہنے والے اس تاریخی مشن کے دوران خلابازوں نے چھ لاکھ 94 ہزار 392 میل کا فاصلہ طے کیا۔ اس سفر میں امریکی خلاباز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل تھے۔ یہ مشن 2028 سے چاند پر انسان اتارنے کے وسیع تر منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے۔

واپسی کے دوران کیپسول کو زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہوتے وقت شدید دباؤ اور تقریباً 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس عمل کے دوران پلازما بننے کے باعث چند منٹ کے لیے زمینی مرکز سے رابطہ منقطع رہا، تاہم پیراشوٹ کھلنے کے بعد کیپسول کی رفتار کم ہوئی اور یہ بحفاظت سمندر میں اترا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا اور بحریہ کی ٹیموں نے کیپسول کو تحویل میں لے کر خلابازوں کو طبی معائنے کے لیے بحری جہاز منتقل کیا۔ یہ چاروں خلاباز یکم اپریل کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے روانہ ہوئے تھے۔ اس سفر میں وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن نے بالترتیب پہلے سیاہ فام، پہلی خاتون اور پہلے غیر امریکی شہری کے طور پر چاند کے مشن کا حصہ بن کر تاریخ رقم کی۔

آرٹیمس ٹو مشن نے زمین سے 2 لاکھ 52 ہزار 756 میل دور تک پہنچ کر اپالو 13 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کا بنیادی مقصد چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

اس کامیابی نے لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ اورین اسپیس کرافٹ کی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے، جس کے ہیٹ شیلڈ کو گزشتہ تجربات کی روشنی میں مزید بہتر بنایا گیا تھا۔ یہ مشن ایک ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب عالمی سطح پر خلا کی تسخیر کے لیے چین اور امریکہ کے مابین مسابقت کا ماحول پایا جاتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -