بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کومنتانگ کی چیئرپرسن چینگ لی وون کے درمیان ملاقات کے دوران کشیدگی برقرار رہی، جس کے دوران چینی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ تائیوان کی آزادی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ یہ ملاقات جمعہ کی صبح گیارہ بجے بیجنگ میں ہوئی۔
ملاقات کے وقت کے دوران ہی تائیوان کی وزارت دفاع نے انکشاف کیا کہ جزیرے کے قریب سولہ چینی جنگی طیاروں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ تائیوان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یہ طیارے جمعہ کی صبح سے دوپہر کے درمیانی وقت میں فضا میں موجود رہے۔
تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل کے نائب وزیر شین یو چونگ نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے فوجی طاقت کا استعمال چین کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف چین امن کا پیغام دیتا ہے تو دوسری طرف مسلسل فوجی طاقت کے ذریعے تائیوان پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
ملاقات کے حوالے سے کومنتانگ کی چیئرپرسن چینگ لی وون نے اپنے دورے کو کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں جماعتوں کے درمیان امن کے قیام کو ادارہ جاتی شکل دینے کی خواہشمند ہیں۔ دوسری جانب کومنتانگ کے نائب چیئرمین چانگ جنگ کونگ نے کہا کہ امن کا دارومدار تائیوان کے عوام کو جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب دینے پر ہے۔
تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کے دفتر نے اس ملاقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تائیوان کو عوامی جمہوریہ چین کا حصہ ثابت کرنا اور اس کے الحاق کو آگے بڑھانا ہے۔ صدر کے ترجمان کیرن کو نے واضح کیا کہ تائیوان کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوانی عوام ہی کر سکتے ہیں۔ چینی دفتر برائے تائیوان امور نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
