-Advertisement-

وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں، خطے میں امن کیلئے کوششیں تیز

تازہ ترین

اسلام آباد مذاکرات: وزیراعظم کا ایران کے ساتھ ثالثی کا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے جس کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان جاری چھ ہفتوں...
-Advertisement-

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔

وزیر اعظم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وانس سے ملاقات کی جس میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مشیر جیریڈ کشنر بھی موجود تھے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ سفارتی رابطے خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بنیاد ثابت ہوں گے۔ ملاقات میں علاقائی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے سفارتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔

وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے فروغ کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایک اور اہم پیش رفت میں وزیراعظم نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جس میں دو طرفہ دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔

یہ ملاقاتیں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل ہوئی ہیں تاہم براہ راست بات چیت کے حوالے سے تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ایران نے باضابطہ مذاکرات کے لیے سخت شرائط برقرار رکھی ہیں۔ سپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کو سب سے پہلے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا ہوں گے۔ یہ مطالبہ تہران کی دس نکاتی تجاویز کا حصہ ہے جس میں دیگر مراعات بھی شامل ہیں۔

اگرچہ ایرانی میڈیا میں اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم امریکی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ الگ الگ ملاقاتیں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کی عکاس ہیں، اگرچہ اہم معاملات پر اختلافات بدستور مذاکراتی عمل کے سامنے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -