چین اور شمالی کوریا نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر باہمی روابط، ہم آہنگی اور عملی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت بیجنگ اور پیونگ یانگ کے درمیان کورونا وبا کے بعد منجمد ہونے والے سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پیونگ یانگ کے دو روزہ دورے کے دوران شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ ہنگامہ خیز اور پیچیدہ عالمی حالات کے تناظر میں دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر اپنے رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید گہرا کریں۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ اُن نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں ملکوں کے مابین مضبوط تعلقات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے واضح کیا کہ بیجنگ پیونگ یانگ کے ساتھ عملی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مثبت رفتار کو برقرار رکھنا اور اسے مزید مستحکم کرنا ہے۔
اس سے قبل جمعرات کے روز وانگ یی نے اپنے شمالی کوریائی ہم منصب کے ساتھ بھی تفصیلی ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر چین اور شمالی کوریا اپنے پرانے اتحاد کو نئی جہت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
