-Advertisement-

لاہور ہائی کورٹ: 22 سال بعد ضبط شدہ سونا اور ڈالر واپس کرنے کا حکم

تازہ ترین

برطانیہ: کیلے اور شراب کی کھیپ سے 5 ٹن کوکین برآمد، مالیت 50 کروڑ ڈالر سے زائد

برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ سرحدی محافظوں...
-Advertisement-

لاہور ہائی کورٹ نے بائیس برس قبل کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط کی گئی تین کلو سونا اور دس ہزار امریکی ڈالر کی واپسی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے کسٹمز کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ملکیتی حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کیا ہے۔

جسٹس ملک جاوید اقبال وینس اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے نو صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کسٹمز حکام کی جانب سے پگھلا کر سونے کی اینٹ میں تبدیل کیے گئے زیورات کو اسی حالت میں واپس کیا جائے۔

مذکورہ کیس کا پس منظر یہ ہے کہ سال 2004 میں کسٹمز حکام نے لاہور ایئرپورٹ سے ایک شہری کو مبینہ طور پر بیرون ملک سونا اور غیر ملکی کرنسی لے جانے کے الزام میں حراست میں لیا تھا اور سامان ضبط کر لیا تھا۔ شہری کے مقدمے سے بری ہونے کے باوجود ضبط شدہ اشیاء واپس نہیں کی گئی تھیں۔

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ضبط شدہ اثاثوں کی شکل تبدیل کرنے سے مالکانہ حقوق ختم نہیں ہو جاتے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاست محض ایک امین ہے اور وہ قانون کے بغیر کسی شہری کو اس کی جائیداد سے محروم نہیں کر سکتی۔ آئین کا آرٹیکل 24 شہریوں کی نجی املاک کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

عدالت نے کسٹمز کا پچاس لاکھ اسی ہزار روپے واپس کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام سونے کی نیلامی کے حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ صرف مالی مالیت کا تعین اصل جائیداد کی واپسی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور کسٹمز حکام کو ہدایت کی کہ وہ پگھلا ہوا سونا اور دس ہزار امریکی ڈالر یا اس کے مساوی موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق رقم شہری کے حوالے کریں۔

سماعت کے دوران کسٹمز وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سونا سٹیٹ بینک منتقل کیا جا چکا ہے اور اب صرف فروخت سے حاصل رقم ہی واپس کی جا سکتی ہے، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -