لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں تین امدادی کارکنوں سمیت دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہونے کے بعد ایک درجن سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
نبطیہ کے علاقے میں ہونے والے مہلک حملوں میں لبنانی سول ڈیفنس کا ایک رکن اور اسلامک ہیلتھ کمیٹی کے دو پیرامیڈیکس بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ لبنانی حکام نے ان واقعات کو ہنگامی خدمات انجام دینے والے عملے کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
دوسری جانب لبنانی ایوانِ صدر نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ بندی پر بات چیت کے لیے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کے ذریعے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین مذاکرات کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔
صدر جوزف عون نے اس سے قبل کئی بار اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یاد رہے کہ دو مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی حملے اور زمینی پیش قدمی شروع کر دی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان رواں ہفتے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے مابین اس بات پر اختلافات موجود ہیں کہ آیا یہ معاہدہ لبنان پر بھی لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔ اسی دوران اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور حزب اللہ بھی جوابی کارروائیاں کر رہی ہے۔
ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق جمعہ کے روز لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کی واشنگٹن میں موجود امریکی سفیر کے ساتھ ٹیلی فون پر پہلی بار رابطہ کاری ہوئی ہے جس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
