-Advertisement-

امریکا: ایرانی حکومت کی حامی پروپیگنڈسٹ ‘اسکریمینگ میری’ کے اہل خانہ حراست میں، ملک بدری کا امکان

تازہ ترین

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید ہے، خرم دستگیر

سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان نیک نیتی کے...
-Advertisement-

امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایرانی حکومت کی حامی مریم طہماسبی اور ان کے اہل خانہ کے گرین کارڈ منسوخ کر دیے گئے ہیں اور انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے سید عیسیٰ ہاشمی، ان کی اہلیہ مریم طہماسبی اور ان کے بیٹے کو ملک بدری سے قبل حراست میں لیا ہے۔ یہ دونوں افراد لاس اینجلس میں دی شکاگو سکول میں بطور پروفیسر تعینات تھے۔

سید عیسیٰ ہاشمی ایرانی سیاستدان معصومہ ابتکار کے بیٹے ہیں۔ معصومہ ابتکار 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے اور 52 امریکیوں کو ایک سال سے زائد عرصے تک یرغمال بنانے والے طلبہ گروپ کی ترجمان کے طور پر عالمی سطح پر جانی گئیں۔ معصومہ ابتکار بعد ازاں 2017 سے 2021 تک ایران میں خواتین اور خاندانی امور کی نائب صدر اور دو بار محکمہ ماحولیات کی سربراہ بھی رہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کے خاندان کو کبھی بھی امریکہ میں رہنے کے غیر معمولی استحقاق سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کبھی بھی امریکی مخالف دہشت گردوں یا ان کے خاندانوں کا ٹھکانہ نہیں بن سکتا اور ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

محکمہ خارجہ کے مطابق ہاشمی اور ان کا خاندان 2014 میں جاری ہونے والے ویزے پر امریکہ آیا تھا۔ انہیں 2016 میں ڈائیورسٹی امیگرنٹ ویزا پروگرام کے تحت مستقل رہائشی حیثیت ملی تھی، جس کا خاتمہ ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر 2025 میں کیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ حالیہ ہفتوں کے دوران ایران سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کر چکی ہے۔

اسی سلسلے میں پاسداران انقلاب کے سابق میجر جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو بھی رواں ماہ لاس اینجلس سے حراست میں لیا گیا ہے اور ان کی مستقل رہائشی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ حمیدہ سلیمانی ایران کی ٹوٹلیٹیرین اور دہشت گرد حکومت کی کھلی حامی ہیں۔

علاوہ ازیں، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی کی بیٹی فاطمہ اردشیر لاریجانی اور ان کے شوہر کی قانونی حیثیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ دونوں افراد اب امریکہ میں موجود نہیں ہیں۔

دریں اثنا، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ یہ وفد ایران میں جاری جنگ کے حوالے سے اہم مذاکرات کرے گا جس میں آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے کھولنے کا معاملہ سر فہرست ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ فی الحال ایران کی جانب سے بند کی گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -