پوپ لیو چہار دہم نے ایران میں جاری جنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات پر کڑی تنقید کی ہے۔ ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں امن کے لیے منعقدہ ایک دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے ان فوجی کارروائیوں کو ہدف تنقید بنایا جن پر کچھ بااثر شخصیات فخر محسوس کرتی ہیں۔
پوپ نے براہ راست صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ خود پرستی اور دولت کی پوجا کا کھیل بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے طاقت کے مظاہرے اور جنگ کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ حقیقی طاقت زندگی کی خدمت میں مضمر ہے۔ پوپ نے ان بچوں کے خطوط کا ذکر کیا جو جنگ زدہ علاقوں سے انہیں موصول ہوئے ہیں جن میں ان انسانیت سوز مظالم کی عکاسی کی گئی ہے جنہیں کچھ بالغ افراد فخر سے بیان کرتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی عسکری صلاحیتوں بشمول بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور ایرانی قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے درمیان پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وفد سے ملاقات کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو تنبیہ کی ہے کہ اگر جنگ بندی کے شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو امریکہ بڑے پیمانے پر حملے کرے گا۔
پوپ لیو چہار دہم نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہتھیاروں کی منصوبہ بندی کرنے والی میزوں کے بجائے مذاکرات اور ثالثی کی میز پر بیٹھیں۔ پوپ نے جمعہ کے روز بھی سوشل میڈیا پر پیغام دیا تھا کہ خدا کسی تنازع کو آشیرباد نہیں دیتا اور مسیح کے پیروکار کبھی بھی بم گرانے والوں کے ساتھ نہیں کھڑے ہو سکتے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ان بیانات کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے دنیا کو زیادہ محفوظ اور مستحکم بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کے انتخابات میں کیتھولک ووٹرز کی بڑی تعداد نے صدر ٹرمپ کی حمایت کی تھی اور ویٹیکن کے ساتھ موجودہ انتظامیہ کے تعلقات مستحکم ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ایران میں عسکری اہداف کے حصول کے بعد صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے خواہاں ہیں۔
پیور ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے انتخابات میں 55 فیصد کیتھولک ووٹرز نے صدر ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا جبکہ سفید فام کیتھولک ووٹرز میں ان کی مقبولیت کا تناسب 62 فیصد رہا تھا۔
