اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اتوار کے روز یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے کا دورہ کیا جس کے بعد خطے میں کشیدگی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ بن گویر نے اپنے دورے کے دوران یہودی عبادت گزاروں کے لیے مسجد کے احاطے تک رسائی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کا یہ احاطہ مشرق وسطیٰ کے حساس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ مسلمان اسے اپنا تیسرا مقدس ترین مقام مانتے ہیں جبکہ یہودی اسے ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں جو ان کا سب سے مقدس مقام ہے۔ دہائیوں سے جاری ایک سمجھوتے کے تحت اس مقام کا انتظام اردن کے مذہبی ادارے کے پاس ہے جہاں یہودیوں کو دورے کی اجازت تو ہے مگر وہاں عبادت کرنے پر پابندی عائد ہے۔
اپنے دفتر سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں ایتمار بن گویر نے دعویٰ کیا کہ وہ آج یہاں خود کو اس مقام کا مالک محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیراعظم نیتن یاہو پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ یہودی عبادت گزاروں کے لیے سہولیات میں اضافہ کیا جا سکے۔ بن گویر کے ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیر نے دورے کے دوران وہاں عبادت بھی کی اور وہ یہودیوں کے لیے داخلے کے اجازت ناموں میں توسیع کے خواہاں ہیں۔
اردن کی وزارت خارجہ نے اس دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اردنی ترجمان نے اسے موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش اور مقدس مقام کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ماضی میں بھی بن گویر کے ایسے اقدامات کے بعد نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ اسرائیل کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے پابند ہیں۔ فی الحال اس دورے کے بعد کسی بڑے ہنگامے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
