مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی امریکی عوام کے لیے ایک نامکمل ایجنڈا بنی ہوئی ہے۔ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ اہم تزویراتی اہداف تاحال حاصل نہیں کیے جا سکے، جن میں آبنائے ہرمز کو تیل کی ترسیل کے لیے کھولنا، ایرانی عوام کی آزادی کو یقینی بنانا اور تہران کے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر بند کرنا شامل ہے۔
امریکی شہریوں کی اکثریت اس تنازع کے حوالے سے خود کو محفوظ یا پر اعتماد محسوس کرنے کے بجائے تشویش، ذہنی دباؤ اور غصے کا شکار ہے۔ رائے عامہ کے جائزے کے مطابق، عوام کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ حکومت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے یا ابھی اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ خاص طور پر، امریکی عوام موجودہ ایرانی حکومت کی بقا اور بین الاقوامی نگرانی میں جوہری پروگرام کی اجازت دینے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر، امریکیوں کی اکثریت اس تنازع کو درست سمت میں گامزن نہیں سمجھتی اور یہ تاثر حالیہ ہفتوں میں مزید گہرا ہوا ہے۔ بہت کم لوگ اس جنگ کو اب تک فوجی مقاصد یا تزویراتی مفادات کے اعتبار سے کامیاب قرار دیتے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال کی ایک بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے کسی واضح حکمت عملی کا فقدان ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے حامی صدر کے فیصلوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، تاہم ایک وسیع طبقہ مانتا ہے کہ انتظامیہ نے تاحال اپنے مقاصد کی وضاحت نہیں کی ہے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ سوشل میڈیا بیانات پر بھی عوام میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر ایران کی تہذیب سے متعلق ان کے ٹرتھ سوشل پوسٹ کو زیادہ تر امریکیوں نے ناپسند کیا ہے۔ صرف میگا ریپبلکنز کا ایک چھوٹا سا طبقہ ہی اسے مذاکراتی حکمت عملی قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب، بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتیں امریکی معیشت اور صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ مہنگائی اور معیشت کے محاذ پر صدر کی منظوری کی شرح میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے جو اب ان کی موجودہ مدت کے نچلے ترین سطح پر ہے۔ ریپبلکنز میں بھی مہنگائی سے نمٹنے کے حوالے سے صدر کی کارکردگی پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔
پارٹی وابستگی کے لحاظ سے رائے میں واضح تقسیم نظر آتی ہے۔ جہاں ڈیموکریٹس اور آزاد امیدوار کانگریس سے ایران میں مزید فوجی کارروائی کی مخالفت میں ووٹ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں ریپبلکنز جنگ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے یا تو باقاعدہ منظوری کے حق میں ہیں یا پھر تمام تر فیصلے صدر ٹرمپ پر چھوڑنے کے حامی ہیں۔
سی بی ایس نیوز اور یو گوو کا یہ سروے 8 سے 10 اپریل 2026 کے درمیان 2387 امریکی بالغ افراد پر مشتمل ایک نمائندہ نمونے کے ساتھ کیا گیا، جس میں غلطی کا امکان 2.4 فیصد ہے۔
