تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ ایرانی عوام اور قیادت کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں قالیباف نے واضح کیا کہ ایران نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا مگر ماضی کے تلخ تجربات اور حالیہ تنازعات نے اعتماد کی فضا کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش کیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ قالیباف کے مطابق امریکہ اب بخوبی ایرانی منطق اور اصولوں سے واقف ہے، لہذا یہ فیصلہ اب اسی پر منحصر ہے کہ وہ عملی اقدامات کے ذریعے ایران کا اعتماد کیسے حاصل کرتا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران سفارت کاری اور عسکری تیاریوں کو اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے یکساں اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عمل بلا تعطل جاری رہے گا۔
قالیباف نے مذاکرات کے عمل کو سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک دوست اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ اکیس گھنٹے طویل مشکل مذاکرات کے دوران لاکھوں ایرانی عوام نے اپنی قیادت اور مذاکراتی ٹیم کی بھرپور حمایت کی۔ اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کی خودمختاری اور طویل مدتی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔
