برطانوی مالیاتی ریگولیٹرز نے اینتھروپک کے مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈل سے لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کے سائبر سیکیورٹی ادارے اور بڑے بینکوں کے ساتھ ہنگامی مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بینک آف انگلینڈ، فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی اور ایچ ایم ٹریژری، نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے ساتھ مل کر ان اہم آئی ٹی سسٹمز میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی نشاندہی اینتھروپک کے جدید ترین اے آئی ماڈل نے کی ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانوی بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور اسٹاک ایکسچینجز کے نمائندوں کو آئندہ دو ہفتوں کے دوران منعقد ہونے والے اجلاس میں کلاڈ میتھوس پریویو نامی اس ماڈل سے جڑے سائبر سیکیورٹی خطرات پر بریفنگ دی جائے گی۔ اس اقدام سے قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں کے ساتھ اس ماڈل کے ممکنہ سائبر خطرات پر بات چیت کے لیے ایک اجلاس طلب کیا تھا۔
اینتھروپک نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ ماڈل پروجیکٹ گلاس ونگ کا حصہ ہے جو ایک کنٹرولڈ اقدام ہے جس کے تحت منتخب اداروں کو غیر جاری شدہ کلاڈ میتھوس پریویو ماڈل کو دفاعی سائبر سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کمپنی نے رواں ماہ ایک بلاگ پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ ماڈل آپریٹنگ سسٹمز، ویب براؤزرز اور دیگر عام استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز میں ہزاروں بڑی کمزوریوں کی نشاندہی کر چکا ہے۔
رائٹرز کی جانب سے رابطہ کرنے پر اینتھروپک نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ بینک آف انگلینڈ نے بھی اس معاملے پر کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔ اسی طرح ٹریژری، نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر اور فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی کی جانب سے بھی فی الحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
