-Advertisement-

یوکرین اور روس کے درمیان ایسٹر کے موقع پر ہونے والی جنگ بندی ختم

تازہ ترین

آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار خاتون کو سربراہِ فوج مقرر کر دیا گیا

آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو فوج کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم انتھونی...
-Advertisement-

روس اور یوکرین کے درمیان آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر ہونے والی 32 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پیر کو باضابطہ طور پر ختم ہو گئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی ہزاروں خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ جنگ بندی ہفتے کی سہ پہر چار بجے شروع ہو کر اتوار کی رات تک جاری رہی۔

یوکرینی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اتوار کی رات دس بجے تک دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی 7 ہزار 696 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس نے کچھ شعبوں میں ایف پی وی اور کامیکازے ڈرونز کا استعمال جاری رکھا۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے یوکرین پر جنگ بندی کی تقریباً 2 ہزار خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ ماسکو کے مطابق یوکرینی افواج نے آرٹلری، ٹینکوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے اور روسی پوزیشنز پر تین بار رات کے وقت پیش قدمی کی کوشش کی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی تھی، تاہم کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اسے مسترد کر دیا۔ پیسکوف کا کہنا تھا کہ جب تک زیلنسکی روس کی شرائط تسلیم نہیں کرتے، تب تک خصوصی فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

جنگ بندی کے دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے شاہد ڈرونز یا میزائل حملوں میں کمی دیکھی گئی۔ خارکیف کے علاقے میں تعینات لیفٹیننٹ کرنل واسیلی کوبزیاک نے بتایا کہ ان کے سیکٹر میں صورتحال نسبتاً پرسکون رہی، جس سے فوجیوں کو ایسٹر کی عبادات میں شرکت کا موقع ملا۔

روس کے علاقے کرسک کے گورنر الیگزینڈر کھنشتین نے الزام لگایا کہ یوکرین نے ایک گیس اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا جس میں ایک بچے سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ ادھر زاپوریژیا کے رہائشیوں نے اس جنگ بندی کو روس کی جانب سے اپنی صفیں دوبارہ درست کرنے کی ایک چال قرار دیا۔

فروری 2022 سے جاری اس جنگ میں لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کروڑوں بے گھر ہوئے ہیں۔ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 19 فیصد رقبے پر قابض ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان علاقائی تنازعات کے باعث امن مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -