پاکستان میں اس ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے قبل تنازع کا نتیجہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اس جنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ان کے سیاسی حامیوں کے درمیان موجود اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ تنازع توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کے بحران نے ملکی معیشت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے اپنے حامیوں کے حلقوں میں بھی جنگ کے حوالے سے سیاسی حمایت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریپبلکن بیس میں بڑھتی ہوئی تقسیم نمایاں ہے، خاص طور پر امریکہ فرسٹ کے نظریے کے حامیوں میں، جو طویل غیر ملکی تنازعات کے خلاف رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ کچھ اتحادیوں نے بھی جنگ کی سمت پر کھلے عام تنقید کی ہے جس سے سیاسی تحریک کے اندر دراڑیں واضح ہو گئی ہیں۔
انتظامیہ کے اندر عسکری حکمت عملی اور مداخلت کے معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ جہاں کچھ حکام مداخلت کے حق میں تھے، وہیں دیگر نے محتاط رویہ اختیار کیا، جو جنگ کے حجم اور دورانیے پر اندرونی بحث کی عکاسی کرتا ہے۔
کانگریس میں زیادہ تر ریپبلکنز ٹرمپ کے بطور کمانڈر ان چیف اختیارات کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم ایک چھوٹا گروہ طویل جنگ اور زمینی فوج کی ممکنہ تعیناتی پر خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس نے مجموعی طور پر مخالفت میں اتحاد قائم کر رکھا ہے اور وہ انتظامیہ کے جنگی اختیارات کو چیلنج کرنے کے لیے اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔
اس تنازع نے عالمی اقتصادی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث، جو تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے داخلی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے جس سے سیاسی بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں، کئی یورپی ممالک فعال تنازع کے دوران آبنائے کی سکیورٹی کے لیے فوجی کارروائی کی حمایت کرنے سے گریزاں ہیں۔
پاکستان اس تنازع میں سفارتی سطح پر ایک نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور مذاکرات کی میزبانی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جاری مذاکرات کے باوجود اس بات پر غیر یقینی برقرار ہے کہ آیا کوئی ایسا حل نکل سکے گا جو دونوں فریقین کو مطمئن کر سکے، کیونکہ تجزیہ کار زمینی حقائق اور سیاسی دباؤ کو بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔
