-Advertisement-

ایران کے جوہری پروگرام پر پوپ کے بیان پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اظہارِ برہمی

تازہ ترین

نیتن یاہو کا ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کی حمایت کا اعلان

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہار دہم کے امن کے مطالبے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پوپ کے مداح نہیں ہیں۔ میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے پوپ کو ایک لبرل شخصیت قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ وہ جرائم کے خاتمے پر یقین نہیں رکھتے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی موقف دہرایا کہ وہ ایسے پوپ کے حامی نہیں جو ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کے معاملے پر خاموش یا نرم گوشہ رکھتے ہوں۔ امریکی صدر نے پوپ پر الزام لگایا کہ وہ ایک ایسے ملک کے ساتھ معاملات میں نرمی برت رہے ہیں جو جوہری طاقت بننے کی خواہش رکھتا ہے۔

اس سے قبل ہفتے کے روز ستر سالہ امریکی پوپ نے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں عبادت گزاروں سے خطاب کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ خود پرستی، دولت کی ہوس اور جنگی جنون کا خاتمہ کریں۔ پوپ نے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ طاقت کا یہ مظاہرہ اب بہت ہو چکا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع اور ویٹیکن نے دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کے تناؤ کی خبروں کی تردید کی ہے۔ میڈیا میں ایسی اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ویٹیکن کے سفیر کارڈینل کرسٹوف پیئر کو طلب کر کے سخت لہجے میں تنبیہ کی تھی کہ چرچ کو امریکی پالیسیوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ ویٹیکن کے ترجمان میٹیو برونی نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کا احوال حقائق کے منافی ہے۔

وائٹ ہاؤس اور ویٹیکن کے درمیان حالیہ عرصے میں تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اور مشرق وسطیٰ و وینزویلا میں فوجی طاقت کے استعمال پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پوپ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو اپنی حتمی اور بہترین پیشکش پہنچا دی ہے، جس کے بعد امن مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -