برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے دباؤ کے باوجود برطانیہ ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حصہ بنے گا۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری تمام تر کوششیں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ میں شمولیت کے لیے کسی بھی فیصلے کی بنیاد واضح قانونی جواز اور سوچا سمجھا منصوبہ ہونا ضروری ہے جو فی الحال موجود نہیں ہے۔
کیئر سٹارمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا کہ برطانیہ اور فرانس ایک کثیر القومی منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد تنازع کے خاتمے کے بعد بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے چالیس سے زائد ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے تاکہ سمندری نقل و حمل کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پیر کے روز سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ ناکہ بندی ان تمام بحری جہازوں کے خلاف غیر جانبداری سے نافذ کی جائے گی جو ایرانی حدود میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو جہاز ایران کو غیر قانونی ٹیکس ادا کریں گے انہیں کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی ایرانی فورسز امریکا یا پرامن جہازوں پر حملہ کریں گی انہیں شدید جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس پیش رفت کے ردعمل میں ایرانی مسلح افواج کے متحدہ کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں۔ ایرانی حکام نے امریکی ناکہ بندی کو غیر قانونی اقدام اور سمندری قزاقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی بندرگاہوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا گیا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ تہران کا موقف ہے کہ اپنی علاقائی حدود میں خودمختاری کا استعمال ایرانی قوم کا قانونی حق ہے۔
