الجزائر: پوپ لیو نے امریکی صدر کی جانب سے کی جانے والی سخت تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کا خوف نہیں رکھتے اور انجیل کے پیغام کو بلند آواز میں پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
گزشتہ روز اتوار کی رات امریکی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پوپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جرائم کے خلاف کمزور اور خارجہ پالیسی کے لیے تباہ کن قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایسے پوپ کے حامی نہیں جو ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کو درست سمجھتا ہو۔
یہ بیان پوپ لیو کے اس تبصرے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی امریکی دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیا تھا اور عوام پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں سے امن کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کریں۔
پیر کے روز افریقہ کے دورے پر روانہ ہوتے ہوئے پوپ لیو نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست دان نہیں ہیں اور اس میدان کو سیاست دانوں کے لیے ہی چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے بیان کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا تاہم ان کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے شاید انجیل کے پیغام کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔
پوپ نے واضح کیا کہ ان کے پیغام کو سیاسی ایجنڈے کے ساتھ جوڑنا انجیل کے اصل مفہوم سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چرچ کے مشن کو جاری رکھیں گے جو دنیا بھر میں امن کے قیام پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انجیل کا پیغام بالکل واضح ہے کہ امن قائم کرنے والے ہی برکت پاتے ہیں، اور آج دنیا میں بہت سے بے گناہ لوگ تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔
پوپ لیو نے زور دیا کہ وہ سیاسی بحثوں میں پڑنے کے بجائے عالمی کشیدگی کے اس دور میں ایک اخلاقی متبادل فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مکالمے، مفاہمت اور کثیر الجہتی تعاون کو آگے بڑھنے کا واحد راستہ قرار دیا۔
پوپ لیو کا یہ دورہ گیارہ روز پر محیط ہے جس میں وہ الجزائر، کیمرون، انگولا اور استوائی گنی کا دورہ کریں گے، جہاں وہ تنازعات، عدم مساوات اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل پر بات کریں گے۔ ایران میں جنگ کے تناظر میں پوپ نے خبردار کیا ہے کہ تشدد کو معمول بنانا اور اسے جائز قرار دینے کے لیے مذہبی زبان کا استعمال انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
