-Advertisement-

امریکی بحری ناکہ بندی کا آغاز، ٹرمپ کی ایرانی بحری جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

تازہ ترین

امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے قریب آنے والے کسی بھی ایرانی جہاز کو تباہ کر دیا جائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو سمندر کی گہرائیوں میں دھکیل دیا گیا ہے اور اب تک ایران کے 158 بحری جہاز مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کی چھوٹی کشتیوں کو ہدف نہیں بنایا کیونکہ یہ تیز رفتار حملہ آور کشتیاں کسی بڑے خطرے کا باعث نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے ان کارروائیوں کا موازنہ سمندر میں منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے کرتے ہوئے انہیں انتہائی تیز اور سخت قرار دیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سمندری راستوں سے امریکہ لائی جانے والی 98.2 فیصد منشیات کو بروقت پکڑ لیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیٹو کے اتحادی ممالک نے آبنائے ہرمز میں امریکی صدر کی جانب سے ناکہ بندی کے منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے جس سے اتحاد کے اندر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ چھ ہفتوں سے جاری تنازعہ ختم کرنے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی فوج دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس آبی گزرگاہ پر تمام سمندری ٹریفک کو بند کر دے گی۔

برطانیہ اور فرانس سمیت نیٹو کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعے میں فریق نہیں بنیں گے اور ناکہ بندی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان ممالک کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ دنیا بھر کا پانچواں حصہ تیل اسی راستے سے گزرتا ہے جسے ایران نے 28 فروری سے بند کر رکھا ہے۔

اتحادیوں کا یہ انکار صدر ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے جو پہلے ہی فوجی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دے چکے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ شدید دباؤ کے باوجود برطانیہ اس ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی کسی جنگ کا حصہ بنے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -