-Advertisement-

خیبر پختونخوا میں شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، محکمہ موسمیات کی وارننگ جاری

تازہ ترین

جرمنی کا سوڈان کے لیے مزید 2 کروڑ یورو کی امداد کا اعلان

جرمنی نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے متاثرین کی مدد کے لیے مزید 20 ملین یورو کی ہنگامی...
-Advertisement-

پاکستان میں سال 2026 کے دوران گرمی کی شدید لہر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق رواں برس موسم کے انتہائی تیور دیکھنے میں آ سکتے ہیں جس سے بالائی اور شہری علاقوں میں طویل ہیٹ ویو کا خطرہ ہے۔

گزشتہ برس جون میں خیبر پختونخوا میں شدید گرمی کے باعث ریسکیو 1122 کو 935 متاثرین کو طبی امداد فراہم کرنا پڑی تھی، جن میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے سنگین کیسز شامل تھے۔ رواں برس جنوری سے اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں بارشوں کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جو 18 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ کر 28 سے 30 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔

ماہرین نے صوبائی حکومت کی تیاریوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے تاحال کوئی واضح حکمت عملی اور طبی سہولیات کے مراکز کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر حزب اللہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صرف الرٹ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز پگھلنے اور سیلاب جیسے خطرات کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات پشاور کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد فہیم خان نے تصدیق کی ہے کہ پشاور، مردان، نوشہرہ اور چارسدہ میں اپریل اور مئی کے دوران شدید گرمی کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات پی ڈی ایم اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور بروقت انتباہ جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔

دوسری جانب، جب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان نے موقف اختیار کیا کہ انہیں محکمہ موسمیات کی جانب سے تاحال ہیٹ ویو کا کوئی باقاعدہ الرٹ موصول نہیں ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق متعلقہ اداروں کے مابین رابطے کا فقدان کسی بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -