واشنگٹن میں ایوان نمائندگان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنے کی قرارداد انتہائی قریبی مقابلے کے بعد مسترد ہوگئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی اس اہم ووٹنگ کے دوران قرارداد کے حق میں 213 جبکہ مخالفت میں 214 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ قرارداد نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکن کانگریس گریگوری میکس نے پیش کی تھی۔ اس اقدام کا مقصد صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنا تھا تاکہ انہیں کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکا جا سکے۔ ووٹنگ کے دوران ریپبلکن پارٹی کے صرف ایک رکن نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جو کہ قرارداد کی منظوری کے لیے درکار تعداد سے کم ثابت ہوا۔
ایوان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اختیارات پر قدغن لگانے کا مطالبہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گزشتہ ہفتے صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے مطالبے کے ساتھ ایران کی پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دی تھی۔ اس کشیدگی کے بعد پاکستان میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر جانے والے جہازوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
اس سے قبل منگل کے روز سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ اسی نوعیت کی ایک قرارداد ناکام ہو گئی تھی، جس میں صرف ایک ریپبلکن رکن نے حمایت کی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد کچھ ریپبلکن ارکان نے تشویش کا اظہار تو کیا تھا، تاہم اس کا اثر ووٹنگ کے نتائج پر مرتب نہیں ہوا۔
رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والی ووٹنگ کے برعکس، اس بار تین ڈیموکریٹک ارکان ہنری کوئلر، گریگ لینڈزمین اور ہوان ورگاس نے صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ رکن کانگریس گریگ لینڈزمین کا کہنا ہے کہ اب بے عملی کی قیمت برداشت کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ادھر ریپبلکن رکن تھامس میسی نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ وارن ڈیوڈسن نے ووٹنگ سے گریز کیا۔
کانگریس کے ارکان کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کو تین ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ یکم مئی کی قانونی ڈیڈ لائن سے آگے بڑھتی ہے تو ریپبلکن ارکان کی جانب سے موقف میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ 1973 کی وار پاورز ریزولیوشن کے تحت بغیر اجازت فوجی کارروائی کی مدت 60 دن تک محدود ہے، تاہم امریکی صدور کی جانب سے اس قانون کو اکثر غیر آئینی قرار دیا جاتا رہا ہے۔
