خلیجی ممالک اور اردن نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ان کے مواصلاتی انفراسٹرکچر پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی جائے۔ ان ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ادارہ ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی نگرانی کرے اور اس پر باقاعدہ رپورٹ جاری کرے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا آغاز 28 فروری 2026 کو ہوا جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کیے گئے، جس کے جواب میں تہران نے خلیجی خطے میں مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک اور اردن نے آئی ٹی یو کونسل کے 48 رکن ممالک کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں ان حملوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
15 اپریل کو جاری کردہ اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے غیر قانونی اور بلا اشتعال حملوں میں شہری آبادی اور انفراسٹرکچر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس میں خاص طور پر انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے جنیوا میں موجود مشن کے مطابق یہ معاملہ آئی ٹی یو کی آئندہ سالانہ نشست کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا جو اپریل کے آخر میں شروع ہوگی۔ مجوزہ قرارداد میں ایران کی جانب سے بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن کی ٹیلی مواصلاتی خدمات پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد کے مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ حملے اور مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں آئی ٹی یو کے آئین اور کنونشن کے تحت رکن ممالک کی ذمہ داریوں کے منافی ہیں۔ مراسلے میں سمندری کیبلز کے لینڈنگ انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے براہ راست نقصانات اور کیبل منصوبوں کی معطلی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
آئی ٹی یو کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قرارداد کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور اسے 28 اپریل سے 8 مئی تک جاری رہنے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ رکن ممالک کے درمیان اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوگی کیونکہ کونسل میں قراردادیں عام طور پر اتفاق رائے سے منظور کی جاتی ہیں۔
