-Advertisement-

ایران نے افزودہ یورینیم ہٹانے سمیت تمام شرائط مان لیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

تازہ ترین

صدر مملکت کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کا تحفظ نہ صرف قومی ذمہ...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں اور وہ افزودہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس عمل میں امریکی زمینی فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یورینیم کو کون منتقل کرے گا تو انہوں نے صرف یہ کہا کہ ہمارے لوگ یہ کام کریں گے۔ صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم ایرانیوں کے ساتھ مل کر یہ مواد حاصل کریں گے اور پھر اسے امریکہ منتقل کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب معاہدہ طے پا جائے گا تو لڑائی کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ یہ ایک خوشگوار پیش رفت ہے، بصورت دیگر ہمیں دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑتا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے حزب اللہ اور حماس جیسی پراکسی تنظیموں کی حمایت بند کرنے پر بھی اتفاق کر لیا ہے۔ معاہدے کے اعلان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان اس ویک اینڈ پر ملاقات متوقع ہے، تاہم جب تک معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا، امریکہ ایران پر عائد پابندیاں برقرار رکھے گا۔

ایکسیس کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 20 ارب ڈالر جاری کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ جوہری مواد حاصل کیا جا سکے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بدلے میں ایک پیسہ بھی ادا نہیں کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -