پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے تحفظِ ماحول کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں معدومیت کے خطرے سے دوچار گدھوں کی قدرتی مسکن میں واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ دو روز قبل رحیم یار خان کے علاقے یزمان کے مقام ٹوبہ تھارو لال میں یوریشین گریفن نسل کے گدھوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی ہے۔ ماہرینِ حیوانات نے اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
عام طور پر یوریشین گریفن گدھ پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں بشمول خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ پنجاب میں ان کا مشاہدہ غیر معمولی سمجھا جاتا ہے اور چولستان جیسے جنوبی علاقوں میں ان کی موجودگی کو اکثر موسمی نقل مکانی یا خوراک کی تلاش سے جوڑا جاتا ہے۔
اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر رحیم یار خان مجاہد کلیم کے مطابق پاکستان میں ان گدھوں کی درست تعداد کا تعین اعداد و شمار کی کمی کے باعث ممکن نہیں ہو سکا، تاہم یہ ملک بھر میں بکھری ہوئی چھوٹی آبادیوں کی صورت میں موجود ہیں۔ پنجاب میں ان پرندوں کی موجودگی نایاب ہے اور ان کی افزائشِ نسل کے شواہد بھی محدود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پرندے مردار خور ہیں اور ماحول کی صفائی برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
پنجاب کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی کے رکن اور ماہرِ حیوانات بدر منیر نے خبردار کیا ہے کہ اس نوع کو کئی خطرات لاحق ہیں جن میں مویشیوں کو دی جانے والی زہریلی ادویات خاص طور پر ڈائیکلوفینک سرفہرست ہے۔ یہ دوا مردار کے ذریعے گدھوں کے نظام میں داخل ہو کر ان کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ مسکن کا خاتمہ، خوراک کی کمی، بجلی کی تاروں سے ٹکراؤ اور انسانی مداخلت بھی ان کی بقا کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گدھوں کی کئی اقسام کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور کچھ انواع معدومیت کے دہانے پر ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر یوریشین گریفن گدھ کو خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم مقامی سطح پر ان کی کم ہوتی تعداد تشویشناک ہے۔
ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر جنوبی پنجاب شیخ محمد زاہد نے بتایا کہ گدھوں کے تحفظ کے لیے آگاہی مہم، محفوظ پناہ گاہوں کے قیام اور مضر ادویات پر پابندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چولستان میں گدھوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تحفظِ حیاتِ وحش کے منصوبے بار آور ثابت ہو رہے ہیں اور ان کی آبادی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
