-Advertisement-

ایران کا امریکی تجاویز کا جائزہ، کسی بھی سمجھوتے سے انکار

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکرز پر حملہ، نئی دہلی کا ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج

بھارت نے آبنائے ہرمز میں اپنے پرچم بردار دو خام تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے حملے پر شدید...
-Advertisement-

ایران نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ پیش رفت آبنائے ہرمز پر کشیدگی اور جاری مذاکرات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکہ کی جانب سے یہ تجاویز پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے دوران پیش کی گئی ہیں جن پر ابھی تک تہران نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کسی بھی قسم کی پسپائی یا نرمی نہیں برتے گا اور پوری قوت کے ساتھ ایرانی قوم کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔

بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنازع کے دسویں روز سے ہی امریکہ کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کے پیغامات آنا شروع ہو گئے تھے۔ تنازع کے چالیسویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ روکنے کے لیے دس نکاتی فریم ورک کو قبول کر لیا تھا۔ پاکستان کی ثالثی میں اکیس گھنٹے طویل مذاکرات کا دور بھی منعقد ہوا لیکن واشنگٹن کی جانب سے اضافی مطالبات سامنے آنے کے بعد یہ سلسلہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔

تہران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز صرف اسی صورت ممکن ہے جب واشنگٹن غیر ضروری مطالبات سے گریز کرے گا اور زمینی حقائق کو تسلیم کرے گا۔ ایران نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے لبنان میں جنگ بندی کو مذاکرات کی شرائط میں شامل کیا تھا اور دعوی کیا کہ اسرائیل نے ابتدا میں معاہدے کی خلاف ورزی کی لیکن بعد ازاں جنگ بندی پر آمادہ ہو گیا۔

سمندری حدود کے حوالے سے ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اسلامی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں تجارتی جہازوں کے لیے مشروط طور پر کھولا جائے گا۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جنگ بندی کے معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کونسل کے مطابق جب تک جنگ کا حتمی خاتمہ نہیں ہوتا، ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹریفک پر اپنی نگرانی برقرار رکھے گا۔

نئے ضوابط کے تحت جہازوں کو مقررہ راستوں پر چلنا ہوگا اور سکیورٹی، حفاظت اور ماحولیاتی خدمات کے عوض فیس ادا کرنی ہوگی۔ ایران نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولا جائے گا کیونکہ یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستان اس معاملے میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور گزشتہ ہفتے دونوں فریقین کے درمیان ابتدائی مذاکرات کی میزبانی بھی کی ہے تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -