-Advertisement-

پوپ لیو کا ٹرمپ کے ساتھ تنازعہ کم کرنے کا عندیہ، بحث سے گریز کا اعلان

تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکرز پر حملہ، نئی دہلی کا ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج

بھارت نے آبنائے ہرمز میں اپنے پرچم بردار دو خام تیل کے ٹینکرز پر ہونے والے حملے پر شدید...
-Advertisement-

پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جاری لفظی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے حالیہ دورہ افریقہ کے دوران ان کے بیانات کی میڈیا میں رپورٹنگ درست نہیں تھی۔ انگولا جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پہلے امریکی پوپ نے واضح کیا کہ کیمرون میں ان کا یہ بیان کہ دنیا کو مٹھی بھر ظالموں نے تباہ کر دیا ہے، ٹرمپ کے خلاف نہیں تھا۔

پوپ لیو کے مطابق یہ تقریر دو ہفتے قبل تیار کی گئی تھی، اس وقت جب صدر ٹرمپ نے ان کی ذات یا امن کے پیغام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ یاد رہے کہ دورے کے آغاز پر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوپ کو کمزور اور خارجہ پالیسی کے لیے تباہ کن قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنی ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر بھی جاری کی تھی جس میں انہیں یسوع مسیح جیسی شبیہ میں دکھایا گیا تھا، جس پر مذہبی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ردعمل دراصل ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ پر پوپ لیو کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا نتیجہ تھا۔ پوپ لیو نے پیر کے روز رائٹرز سے گفتگو میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا جاری رکھیں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے منگل کے روز دوبارہ تنقید کے بعد جمعرات کو پوپ نے بغیر نام لیے ایسے عالمی رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔

پوپ نے کہا کہ ان کا مقصد امریکی صدر سے بحث کرنا ہرگز نہیں ہے۔ شکاگو سے تعلق رکھنے والے پوپ لیو نے اپنے ابتدائی دس ماہ کے دور میں خاموشی اختیار کیے رکھی تھی، تاہم افریقہ کے اس دورے میں ان کا انداز انتہائی جارحانہ اور توانا دکھائی دے رہا ہے جس میں وہ جنگ، عدم مساوات اور عالمی رہنماؤں کی پالیسیوں پر کھل کر بات کر رہے ہیں۔ پوپ کا یہ دورہ افریقہ تاریخ کے پیچیدہ ترین دوروں میں شمار کیا جا رہا ہے جس میں وہ چار ممالک کے گیارہ شہروں کا سفر کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -